نئی دہلی،15؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کی طرف سے سول سروس امتحان میں عمر کی حد اور امتحان کی شکل میں تبدیلی کے بابت تجاویز دینے کے لئے قائم باسون کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے تقریباًآٹھ ماہ بعد مرکزی حکومت اس پر غور کر رہی ہے۔ اس کی معلومات حکومت نے دی ہے ۔ کمیٹی نے یہ رپورٹ نو اگست، 2016 کو یو پی ایس سی بورڈ کو سونپی تھی۔نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی جانب سے داخل آر ٹی آئی عرضی پر اپنے جواب میں عملے اور تربیت محکمہ (ڈی او پی ٹی) نے کہا کہ باسون کمیٹی کی رپورٹ اور اس پر یو پی ایس سی کی سفارشات ہمیں 20 مارچ 2017 کو موصول ہوئے اور ان پر غور کیا جا رہا ہے۔یو پی ایس سی کی جانب سے ہر سال منعقد کیے جانے والی سول سروس امتحان میں ہزاروں امیدوار شامل ہوتے ہیں۔ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کو ان کی ریکنگ کی بنیاد پر بھارتی انتظامی خدمات، بھارتی پولیس سروس، بھارتی خارجہ سروس سمیت دیگر مرکزی سروسیز میں بحالی کی جاتی ہے۔یو پی ایس سی نے مرکزی انسانی وسائل ترقی کی وزارت کے سابق سیکریٹری اور ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر گریڈ باسون کی صدارت میں ماہر ین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس اگست 2015 میں منعقد ہ سول سروس امتحان کے معائنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی۔سرکاری ذرائع کی مانیں تو کمیٹی نے اس امتحان میں بیٹھنے کے لئے 32 سال کی زیادہ سے زیادہ حد کو کمی کی سفارش کی تھی ۔ جتندر سنگھ نے گزشتہ سال نومبر میں راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیا تھا ۔سول سروس امتحان کی ہیئت اور عمر کی حد سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر فی الحال یو پی ایس سی غور کر رہا ہے۔ اس سے پہلے یو پی ایس سی نے مختلف امتحانات میں اکثر پوچھے گئے سوالات میں کسی چوک یا غلطی کی خبر دینے کی میعاد سات دن طے کی تھی۔